پی آئی اے جلد خسارے سے نکل جائے گا، راؤ قمر سلیمان
پی آئی اے کے عملے کا مسافروں کے ساتھ برتاؤ بہتر بنانے کیلئے عملے کو خصوصی ہدایات جاری کی گئیں ، نئے طیارے خریدنے کی بجائے انہیں لیز پر حاصل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ، پی آئی اے کے تمام طیارے پرانے ہوچکے، فوری طورپر بدلنے کی ضرورت ہے ۔ چیئرمین پی آئی اے کی سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور دفاعی پیداوار کو بریفنگ
اسلام آباد۔ چیئرمین پی آئی اے ایئر چیف مارشل ریٹائرڈ راؤ قمر سلیمان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کا بزنس پلان منظوری کیلئے وزیراعظم کے پاس پڑا ہے ، پی آئی اے کے عملے کا مسافروں کے ساتھ برتاؤ بہتر بنانے کیلئے عملے کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں ، پی آئی اے نئے طیارے خریدنے کی بجائے انہیں لیز پر حاصل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ، پی آئی اے کے تمام طیارے پرانے ہوچکے ہیں انہیں فوری طورپر بدلنے کی ضرورت ہے ۔
ان خیالات کا اظہار چیئرمین پی آئی اے نے پیر کے روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور دفاعی پیداوار کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ارکان سینٹ نے دوران سفرپی آئی اے کے عملے کی مسافروں کے ساتھ ناروا روئیے کی شکایت کی جس پر راؤ قمر سلیمان کا کہنا تھا کہ عملے کا رویہ آج سے بیس سے پچیس سال قبل مسافروں کے ساتھ مثالی ہوتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں ابتری آتی گئی تاہم اب دوبارہ اس میں بہتری لانے کیلئے بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایئر ہوسٹس کو کہا گیا ہے وہ مسافروں کے ساتھ مسکرا کر بات کرنا ضروری سمجھیں انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے جہاز بہت پرانے ہوچکے ہیں اور ان پرانے جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھی بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں پی آئی اے کو چھوٹے روٹس پر چھوٹے جہاز چاہیں جن پر اخراجات کم آتے ہیں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے 737(800)ائیر کرافٹ اور 777(2)جہاز لیز پر لینے کیلئے انتظامات کئے ہیں انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے بزنس پلان منظوری کیلئے وزیراعظم کے پاس ہے توقع ہے کہ منظوری کے بعد پی آئی اے کو خسارے سے نکال لیا جائے گا ۔
چیئرمین پی آئی اے کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی کارکردگی پر بے جا تنقید کی جاتی ہے اور تنقید کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ پی آئی اے نجی نہیں بلکہ سرکاری ادارہ ہے جس میں فیصلہ سازی کیلئے سرکاری قواعد وضوابط کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں گلفکی ایک ائیر لائن پی آئی اے کوچار سو747 جہاز کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتی تھی لیکن اس لئے نہ خرید سکے کیونکہ پی آئی اے کو جہازوں کی خریداری کیلئے پیپرا رولز کی پیروی کرنا پڑتی ہے اور جس کے تحت کم از کم تین مہینے کا وقت درکار تھا جس پر وہ پارٹی پی آئی اے کو جہاز فروخت نہ کرسکی ۔