پی آئی اے میں لوٹ مار پچاس ہزار ڈالر ماہانہ اور بیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران نے کیا کارنامے انجام دیئے ہیں






کراچی کے ممتاز جدی پشتی بلڈر (جن کے خلاف اس وقت بھی پاکستان کی مقتدر عدالت اور دیگر عدالتوں میں زمینوں کے حوالے سے مقدمات درج ہیں)   نے  پی آئی اے کے سابق افسر اعلیِ نے سلیم سیانی کو پچاس ہزار ڈالر مہینہ یعنی تقریبا 45لاکھ روپے مہینہ اور اجلال حیدر کو بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھتے وقت سلیم سیانی اور اجلال حیدر کے کس کارنامے کو مد نظر رکھا تھا پاکستان کے غریب عوام یہ بات  دریافت کرنے پر حق بجانب ہیں کہ آخر سلیم سیانی اور اجلال حیدر نے ان خطیر تنخواہوں کےعوض پی آئی اے کےلیئے ایسے کونسے سنہری کام انجام دیئے؟؟؟؟  جن کی وجہ سے پی آئی اے جو کہ ڈوبتا ہوا ٹائی ٹینک بن چکا ہے کی انتظامیہ نے اس قدر گراں قدر معاوضہ  محض دو  ریٹائیرڈ اور ناکارہ افراد کی خدمات کے عوض دیا کیا نیب کو اس بات کی تحقیقات نہیں کرنا چاہِے کہ کراچی کے جدی پشتی  بلڈر نے پی آئی اے کو اس قدر جلد تباہی کے دیاہنے پر کس طرح سے پہنچا دیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟  
 پاکستانی عوام کا حق ہے کہ وہ سوال کریں  کہ پی آئی اے میں  پچاس ہزار ڈالر ماہانہ اور بیس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران نے کیا کارنامے انجام دیئے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ان افسران کے کارناموں کی تفصیلات پاکستانی عوام کے سامنے لائی جائے

پی آئی اے میں جس قدر لوٹ مار ہو رہی ہے اس کی مثال ملنا بےا نتہا مشکل ہے یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ڈیوٹی فری شاپ کے حوالے سے بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسراجلال حیدر کے دامن پر ڈیوٹی فری شاپ کے حوالے سے بہت سے دھبے  لگے ہوئے ہیں معلوم نہیں کہ کراچی کے ممتاز جدی پشتی بلڈر اور  پی آئی اے کے سابق افسر اعلیِ نے اجلال حیدر کو بیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھتے وقت اجلال حیدر کے کس کارنامے کو مد نظر رکھا تھا 

دن بدن ڈوبتی ہوئِ پی آئی اے  کو مزید ڈوبونے میں اہم ترین کردار کیپٹن اعجاز ہارون  نے ادا کیا تھا جو کہ اگر چہ کہ اپنے نام کے ساتھ کیپٹن کا اعزاز بھی سجاتے ہیں مگر جاننے والے یہ بات بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کیپٹن اعجاز ہارون کیپٹن کم اور بلڈر زیادہ ہیں جو کہ انیں وراثت میں ملا تھا اور ورثے میں ملے ہوئے اس اثاثے کو کیپٹن اعجاز ہاروں نے بہت ہی احتیاط کے ساتھ سنبھال کررکھا ہوا ہے